قَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّتِى تُجَـٰدِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَآ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ
Qad samiAAa Allahu qawla allatee tujadilukafee zawjiha watashtakee ila Allahi wallahuyasmaAAu tahawurakuma inna Allaha sameeAAunbaseer
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا1، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے واﻻ ہے.
تفسیر المیسر: قد سمع الله قول خولة بنت ثعلبة التي تراجعت في شأن زوجها أوس بن الصامت، وفيما صدر عنه في حقها من الظِّهار، وهو قوله لها: «أنت عليَّ كظهر أمي» ، أي: في حرمة النكاح، وهي تتضرع إلى الله تعالى; لتفريج كربتها، والله يسمع تخاطبكما ومراجعتكما. إن الله سميع لكل قول، بصير بكل شيء، لا تخفى عليه خافية.
ٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَـٰتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَـٰتُهُمْ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔى وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ ٱلْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
Allatheena yuthahiroonaminkum min nisa-ihim ma hunna ommahatihim inommahatuhum illa alla-ee waladnahumwa-innahum layaqooloona munkaran mina alqawli wazooran wa-innaAllaha laAAafuwwun ghafoor
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے1، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے.2
تفسیر المیسر: الذين يُظاهرون منكم من نسائهم، فيقول الرجل منهم لزوجته: «أنت عليَّ كظهر أمي» -أي في حرمة النكاح- قد عصوا الله وخالفوا الشرع، ونساؤهم لَسْنَ في الحقيقة أمهاتهم، إنما هن زوجاتهم، ما أمهاتهم إلا اللائي ولدنهم. وإن هؤلاء المظاهِرين ليقولون قولا كاذبًا فظيعًا لا تُعرف صحته. وإن الله لعفو غفور عمَّن صدر منه بعض المخالفات، فتداركها بالتوبة النصوح.
وَٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا۟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
Wallatheena yuthahiroonamin nisa-ihim thumma yaAAoodoona lima qaloofatahreeru raqabatin min qabli an yatamassa thalikumtooAAathoona bihi wallahu bimataAAmaloona khabeer
جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں1 تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے2 ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے.
تفسیر المیسر: والذين يحرِّمون نساءهم على أنفسهم بالمظاهَرة منهن، ثم يرجعون عن قولهم ويعزمون على وطء نسائهم، فعلى الزوج المظاهِر -والحالة هذه- كفارة التحريم، وهي عتق رقبة مؤمنة عبد أو أمة قبل أن يطأ زوجته التي ظاهر منها، ذلكم هو حكم الله -فيمن ظاهر مِن زوجته- توعظون به، أيها المؤمنون; لكي لا تقعوا في الظهار وقول الزور، وتُكَفِّروا إن وقعتم فيه، ولكي لا تعودوا إليه، والله لا يخفى عليه شيء من أعمالكم، وهو مجازيكم عليها.
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۗ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Faman lam yajid fasiyamushahrayni mutatabiAAayni min qabli an yatamassafaman lam yastatiAA fa-itAAamu sitteenamiskeenan thalika litu/minoo billahiwarasoolihi watilka hudoodu Allahi walilkafireenaAAathabun aleem
ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے.
تفسیر المیسر: فمن لم يجد رقبة يُعتقها، فالواجب عليه صيام شهرين متواليين من قبل أن يطأ زوجه، فمن لم يستطع صيام الشهرين لعذر شرعي، فعليه أن يطعم ستين مسكينًا ممن لا يملكون ما يكفيهم ويسد حاجتهم ما يشبعهم، ذلك الذي بينَّاه لكم من أحكام الظهار; من أجل أن تصدِّقوا بالله وتتبعوا رسوله وتعملوا بما شرعه الله، وتتركوا ما كنتم عليه في جاهليتكم، وتلك الأحكام المذكورة هي أوامر الله وحدوده فلا تتجاوزوها، وللجاحدين بها عذاب موجع.
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ كُبِتُوا۟ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَقَدْ أَنزَلْنَآ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍ ۚ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
Inna allatheena yuhaddoona Allahawarasoolahu kubitoo kama kubita allatheena minqablihim waqad anzalna ayatin bayyinatinwalilkafireena AAathabun muheen
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں1 گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے2، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت واﻻ عذاب ہے.
تفسیر المیسر: إن الذين يشاقون الله ورسوله ويخالفون أمرهما خُذِلوا وأُهينوا، كما خُذِل الذين من قبلهم من الأمم الذين حادُّوا الله ورسله، وقد أنزلنا آيات واضحات الحُجَّة تدل على أن شرع الله وحدوده حق، ولجاحدي تلك الآيات عذاب مُذلٌّ في جهنم.
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓا۟ ۚ أَحْصَىٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
Yawma yabAAathuhumu Allahu jameeAAanfayunabbi-ohum bima AAamiloo ahsahu Allahuwanasoohu wallahu AAala kulli shay-inshaheed
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کیے ہوئے عمل سے آگاه کرے گا، جسے اللہ نے شمار رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے1، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے.2
تفسیر المیسر: واذكر -أيها الرسول- يوم القيامة، يوم يحيي الله الموتى جميعًا، ويجمع الأولين والآخرين في صعيد واحد، فيخبرهم بما عملوا من خير وشر، أحصاه الله وكتبه في اللوح المحفوظ، وحفظه عليهم في صحائف أعمالهم، وهم قد نسوه. والله على كل شيء شهيد، لا يخفى عليه شيء.
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَـٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا۟ ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
Alam tara anna Allaha yaAAlamu mafee assamawati wama fee al-ardima yakoonu min najwa thalathatin illahuwa rabiAAuhum wala khamsatin illa huwa sadisuhumwala adna min thalika wala aktharailla huwa maAAahum ayna ma kanoo thummayunabbi-ohum bima AAamiloo yawma alqiyamati innaAllaha bikulli shay-in AAaleem
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وه ہوتا ہے اور نہ اس سے کم کی اور نہ زیاده کی مگر وه ساتھ ہی ہوتا ہے1 جہاں بھی وه ہوں2، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاه کرے گا3 بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے.
تفسیر المیسر: ألم تعلم أن الله تعالى يعلم كل شيء في السموات والأرض؟ ما يتناجى ثلاثة مِن خلقه بحديث سرٍّ إلا هو رابعهم بعلمه وإحاطته، ولا خمسة إلا هو سادسهم، ولا أقلُّ من هذه الأعداد المذكورة ولا أكثرُ منها إلا هو معهم بعلمه في أيِّ مكان كانوا، لا يخفى عليه شيء من أمرهم، ثم يخبرهم تعالى يوم القيامة بما عملوا من خير وشر ويجازيهم عليه. إن الله بكل شيء عليم لا تخفى عليه خافية.
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُهُوا۟ عَنِ ٱلنَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَيَتَنَـٰجَوْنَ بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَمَعْصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِىٓ أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
Alam tara ila allatheena nuhooAAani annajwa thumma yaAAoodoona lima nuhooAAanhu wayatanajawna bil-ithmi walAAudwaniwamaAAsiyati arrasooli wa-itha jaookahayyawka bima lam yuhayyika bihi Allahuwayaqooloona fee anfusihim lawla yuAAaththibunaAllahu bima naqoolu hasbuhum jahannamu yaslawnahafabi/sa almaseer
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں1 اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں2، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا3 اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا4، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے5، سو وه برا ٹھکانا ہے.
تفسیر المیسر: ألم تر -أيها الرسول- إلى اليهود الذين نُهوا عن الحديث سرًّا بما يثير الشك في نفوس المؤمنين، ثم يرجعون إلى ما نُهوا عنه، ويتحدثون سرًّا بما هو إثم وعدوان ومخالفة لأمر الرسول؟ وإذا جاءك -أيها الرسول- هؤلاء اليهود لأمر من الأمور حيَّوك بغير التحية التي جعلها الله لك تحية، فقالوا: (السام عليك) أي: الموت لك، ويقولون فيما بينهم: هلا يعاقبنا الله بما نقول لمحمد إن كان رسولا حقًا، تكفيهم جهنم يدخلونها، ويقاسون حرها، فبئس المرجع هي.
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَنَـٰجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَـٰجَوْا۟ بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَمَعْصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَـٰجَوْا۟ بِٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
Ya ayyuha allatheena amanooitha tanajaytum fala tatanajaw bil-ithmiwalAAudwani wamaAAsiyati arrasooliwatanajaw bilbirri wattaqwa wattaqooAllaha allathee ilayhi tuhsharoon
اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں1، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو2 اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے.
تفسیر المیسر: يا أيها الذين صدَّقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه، إذا تحدثتم فيما بينكم سرًا، فلا تتحدثوا بما فيه إثم من القول، أو بما هو عدوان على غيركم، أو مخالفة لأمر الرسول، وتحدثوا بما فيه خير وطاعة وإحسان، وخافوا الله بامتثالكم أوامره واجتنابكم نواهيه، فإليه وحده مرجعكم بجميع أعمالكم وأقوالكم التي أحصاها عليكم، وسيجازيكم بها.
إِنَّمَا ٱلنَّجْوَىٰ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ لِيَحْزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
Innama annajwa mina ashshaytaniliyahzuna allatheena amanoo walaysa bidarrihimshay-an illa bi-ithni Allahi waAAalaAllahi falyatawakkali almu/minoon
(بری) سرگوشیاں، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمان داروں کو رنج پہنچے1۔ گو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وه انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں.2
تفسیر المیسر: إنما التحدث خفية بالإثم والعدوان من وسوسة الشيطان، فهو المزيِّن لها، والحامل عليها; ليُدْخِل الحزن على قلوب المؤمنين، وليس ذلك بمؤذي المؤمنين شيئًا إلا بمشيئة الله تعالى وإرادته. وعلى الله وحده فليعتمد المؤمنون به.
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا۟ فِى ٱلْمَجَـٰلِسِ فَٱفْسَحُوا۟ يَفْسَحِ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُوا۟ فَٱنشُزُوا۟ يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ دَرَجَـٰتٍ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
Ya ayyuha allatheena amanooitha qeela lakum tafassahoo fee almajalisifafsahoo yafsahi Allahu lakum wa-ithaqeela onshuzoo fanshuzoo yarfaAAi Allahu allatheenaamanoo minkum wallatheena ootoo alAAilmadarajatin wallahu bima taAAmaloonakhabeer
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو1 اللہ تمہیں کشادگی دے گا2، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ3 تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا4، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے.
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَـٰجَيْتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Ya ayyuha allatheena amanooitha najaytumu arrasoola faqaddimoo baynayaday najwakum sadaqatan thalika khayrunlakum waatharu fa-in lam tajidoo fa-inna Allahaghafoorun raheem
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو1 یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے2، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
ءَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَـٰتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا۟ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ
Aashfaqtum an tuqaddimoo bayna yaday najwakumsadaqatin fa-ith lam tafAAaloo watabaAllahu AAalaykum faaqeemoo assalatawaatoo azzakata waateeAAoo Allahawarasoolahu wallahu khabeerun bimataAAmaloon
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا1 تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو2۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے.
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى ٱلْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
Alam tara ila allatheenatawallaw qawman ghadiba Allahu AAalayhim mahum minkum wala minhum wayahlifoona AAalaalkathibi wahum yaAAlamoon
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے1، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں2 باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں.3
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
aAAadda Allahu lahum AAathabanshadeedan innahum saa ma kanoo yaAAmaloon
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں.1
ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
Ittakhathoo aymanahum junnatanfasaddoo AAan sabeeli Allahi falahum AAathabunmuheen
ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے1 اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں2 ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.
لَّن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
Lan tughniya AAanhum amwaluhum walaawladuhum mina Allahi shay-an ola-ika as-habuannari hum feeha khalidoon
ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے.
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ ۚ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْكَـٰذِبُونَ
Yawma yabAAathuhumu Allahu jameeAAanfayahlifoona lahu kama yahlifoona lakum wayahsaboonaannahum AAala shay-in ala innahum humu alkathiboon
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے1 اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں2، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں.
ٱسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَأَنسَىٰهُمْ ذِكْرَ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱلشَّيْطَـٰنِ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ
Istahwatha AAalayhimu ashshaytanufaansahum thikra Allahi ola-ika hizbuashshaytani ala inna hizba ashshaytanihumu alkhasiroon
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے1، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے2 یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے.3
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ
Inna allatheena yuhaddoona Allahawarasoolahu ola-ika fee al-athalleen
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں1 وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں.2
كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِىٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
Kataba Allahu laaghlibanna anawarusulee inna Allaha qawiyyun AAazeez
اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے1 کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے.2
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْإِيمَـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
La tajidu qawman yu/minoona billahiwalyawmi al-akhiri yuwaddoona man haddaAllaha warasoolahu walaw kanoo abaahumaw abnaahum aw ikhwanahum aw AAasheeratahum ola-ikakataba fee quloobihimu al-eemana waayyadahum biroohinminhu wayudkhiluhum jannatin tajree min tahtihaal-anharu khalideena feeha radiya AllahuAAanhum waradoo AAanhu ola-ika hizbu Allahiala inna hizba Allahi humu almuflihoon
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے1 گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں2۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے3 اور جن کی تائید اپنی روح سے کی4 ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں5 یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں،آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے .6