سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Sabbaha lillahi ma fee assamawatiwama fee al-ardi wahuwa alAAazeezu alhakeem
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وه غالب باحکمت ہے.
تفسیر المیسر: نزَّه الله عن كل ما لا يليق به كلُّ ما في السموات وما في الأرض، وهو العزيز الذي لا يغالَب، الحكيم في قَدَره وتدبيره وصنعه وتشريعه، يضع الأمور في مواضعها.
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن دِيَـٰرِهِمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا۟ ۖ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ ۖ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِينَ فَٱعْتَبِرُوا۟ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ
Huwa allathee akhraja allatheenakafaroo min ahli alkitabi min diyarihim li-awwalialhashri ma thanantum an yakhrujoo wathannooannahum maniAAatuhum husoonuhum mina Allahifaatahumu Allahu min haythu lam yahtasiboowaqathafa fee quloobihimu arruAAba yukhriboonabuyootahum bi-aydeehim waaydee almu/mineena faAAtabiroo yaolee al-absar
وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا1، تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وه نکلیں گے اور وه خود (بھی) سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قلعے انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے2 پس ان پر اللہ (کا عذاب) ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا3 اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا4 وه اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے5 اور مسلمانوں کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے6) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو.7
تفسیر المیسر: هو -سبحانه- الذي أخرج الذين جحدوا نبوة محمد صلى الله عليه وسلم، من أهل الكتاب، وهم يهود بني النضير، من مساكنهم التي جاوروا بها المسلمين حول «المدينة» ، وذلك أول إخراج لهم من «جزيرة العرب» إلى «الشام» ، ما ظننتم -أيها المسلمون- أن يخرجوا من ديارهم بهذا الذل والهوان; لشدة بأسهم وقوة منعتهم، وظن اليهود أن حصونهم تدفع عنهم بأس الله ولا يقدر عليها أحد، فأتاهم الله من حيث لم يخطر لهم ببال، وألقى في قلوبهم الخوف والفزع الشديد، يُخْربون بيوتهم بأيديهم وأيدي المؤمنين، فاتعظوا يا أصحاب البصائر السليمة والعقول الراجحة بما جرى لهم.
وَلَوْلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمُ ٱلْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ
Walawla an kataba AllahuAAalayhimu aljalaa laAAaththabahum fee addunyawalahum fee al-akhirati AAathabu annar
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا1، اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی.
تفسیر المیسر: ولولا أن كتب الله عليهم الخروج مِن ديارهم وقضاه، لَعذَّبهم في الدنيا بالقتل والسبي، ولهم في الآخرة عذاب النار.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
Thalika bi-annahum shaqqoo Allahawarasoolahu waman yushaqqi Allaha fa-inna Allahashadeedu alAAiqab
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی سخت عذاب کرنے واﻻ ہے.
تفسیر المیسر: ذلك -الذي أصاب اليهود في الدنيا وما ينتظرهم في الآخرة- لأنهم خالفوا أمر الله وأمر رسوله أشدَّ المخالفة، وحاربوهما وسعَوا في معصيتهما، ومن يخالف الله ورسوله فإن الله شديد العقاب له.
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ
Ma qataAAtum min leenatin awtaraktumooha qa-imatan AAala osoolihafabi-ithni Allahi waliyukhziya alfasiqeen
تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے.1
تفسیر المیسر: ما قطعتم -أيها المؤمنون- من نخلة أو تركتموها قائمة على ساقها، من غير أن تتعرضوا لها، فبإذن الله وأمره؛ وليُذلَّ بذلك الخارجين عن طاعته المخالفين أمره ونهيه، حيث سلَّطكم على قطع نخيلهم وتحريقها.
وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
Wama afaa Allahu AAalarasoolihi minhum fama awjaftum AAalayhi min khaylin walarikabin walakinna Allaha yusalliturusulahu AAala man yashao wallahuAAala kulli shay-in qadeer
اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے1، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
تفسیر المیسر: وما أفاءه الله على رسوله من أموال يهود بني النضير، فلم تركبوا لتحصيله خيلا ولا إبلا ولكن الله يسلِّط رسله على مَن يشاء مِن أعدائه، فيستسلمون لهم بلا قتال، والفيء ما أُخذ من أموال الكفار بحق من غير قتال. والله على كل شيء قدير لا يعجزه شيء.
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
Ma afaa Allahu AAalarasoolihi min ahli alqura falillahi walirrasooliwalithee alqurba walyatama walmasakeeniwabni assabeeli kay la yakoona doolatanbayna al-aghniya-i minkum wama atakumuarrasoolu fakhuthoohu wama nahakumAAanhu fantahoo wattaqoo Allaha inna Allahashadeedu alAAiqab
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے.
تفسیر المیسر: ما أفاءه الله على رسوله من أموال مشركي أهل القرى من غير ركوب خيل ولا إبل فلله ولرسوله، يُصْرف في مصالح المسلمين العامة، ولذي قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهم بنو هاشم وبنو المطلب، واليتامى وهم الأطفال الفقراء الذين مات آباؤهم، والمساكين، وهم أهل الحاجة الذين لا يملكون ما يكفيهم ويسد حاجتهم، وابن السبيل، وهو الغريب المسافر الذي نَفِدت نفقته وانقطع عنه ماله؛ وذلك حتى لا يكون المال ملكًا متداولا بين الأغنياء وحدهم، ويحرم منه الفقراء والمساكين. وما أعطاكم الرسول من مال، أو شرعه لكم مِن شرع، فخذوه، وما نهاكم عن أَخْذه أو فِعْله فانتهوا عنه، واتقوا الله بامتثال أوامره وترك نواهيه. إن الله شديد العقاب لمن عصاه وخالف أمره ونهيه. والآية أصل في وجوب العمل بالسنة: قولا أو فعلا أو تقريرًا.
لِلْفُقَرَآءِ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَأَمْوَٰلِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ
Lilfuqara-i almuhajireena allatheenaokhrijoo min diyarihim waamwalihim yabtaghoona fadlanmina Allahi waridwanan wayansuroonaAllaha warasoolahu ola-ika humu assadiqoon
(فیء کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وه اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں.1
تفسیر المیسر: وكذلك يُعطى من المال الذي أفاءه الله على رسوله الفقراء المهاجرون، الذين اضطرهم كفار «مكة» إلى الخروج من ديارهم وأموالهم يطلبون من الله أن يتفضل عليهم بالرزق في الدنيا والرضوان في الآخرة، وينصرون دين الله ورسوله بالجهاد في سبيل الله، أولئك هم الصادقون الذين صدَّقوا قولهم بفعلهم.
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَـٰنَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِى صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ أُوتُوا۟ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
Wallatheena tabawwaoo addarawal-eemana min qablihim yuhibboona man hajarailayhim wala yajidoona fee sudoorihim hajatanmimma ootoo wayu/thiroona AAala anfusihim walaw kanabihim khasasatun waman yooqa shuhha nafsihi faola-ikahumu almuflihoon
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے1 اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے2 بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی 3سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے.4
تفسیر المیسر: والذين استوطنوا «المدينة» ، وآمنوا من قبل هجرة المهاجرين -وهم الأنصار- يحبون المهاجرين، ويواسونهم بأموالهم، ولا يجدون في أنفسهم حسدًا لهم مما أُعْطوا من مال الفيء وغيره، ويُقَدِّمون المهاجرين وذوي الحاجة على أنفسهم، ولو كان بهم حاجة وفقر، ومن سَلِم من البخل ومَنْعِ الفضل من المال فأولئك هم الفائزون الذين فازوا بمطلوبهم.
وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
Wallatheena jaoo minbaAAdihim yaqooloona rabbana ighfir lana wali-ikhwaninaallatheena sabaqoona bil-eemani walatajAAal fee quloobina ghillan lillatheena amanoorabbana innaka raoofun raheem
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال1، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.
تفسیر المیسر: والذين جاؤوا من المؤمنين من بعد الأنصار والمهاجرين الأولين يقولون: ربنا اغفر لنا ذنوبنا، واغفر لإخواننا في الدين الذين سبقونا بالإيمان، ولا تجعل في قلوبنا حسدًا وحقدًا لأحد من أهل الإيمان، ربنا إنك ترحم عبادك رحمة واسعة في عاجلهم وآجلهم. وفي الآية دلالة على أنه ينبغي للمسلم أن يذكر سلفه بخير، ويدعو لهم، وأن يحب صحابة رسول الله، صلى الله عليه وسلم، ويذكرهم بخير، ويترضى عنهم.
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ يَقُولُونَ لِإِخْوَٰنِهِمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ
Alam tara ila allatheena nafaqooyaqooloona li-ikhwanihimu allatheena kafaroo minahli alkitabi la-in okhrijtum lanakhrujanna maAAakum walanuteeAAu feekum ahadan abadan wa-in qootiltum lanansurannakumwallahu yashhadu innahum lakathiboon
کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی جائے گی تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے1، لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعاً جھوٹے ہیں.2
لَئِنْ أُخْرِجُوا۟ لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا۟ لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ ٱلْأَدْبَـٰرَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ
La-in okhrijoo la yakhrujoonamaAAahum wala-in qootiloo la yansuroonahum wala-innasaroohum layuwallunna al-adbara thumma layunsaroon
اگر وه جلاوطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد (بھی) نہ کریں1 گے اور اگر (بالفرض) مدد پر آبھی گئے2 تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں3 گے پھر مدد نہ کیے جائیں گے.4
لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِى صُدُورِهِم مِّنَ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ
Laantum ashaddu rahbatan fee sudoorihimmina Allahi thalika bi-annahum qawmun layafqahoon
(مسلمانو! یقین مانو) کہ تمہاری ہیبت ان کے دلوں1 میں بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیاده ہے، یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں.2
لَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِى قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَآءِ جُدُرٍۭ ۚ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ
La yuqatiloonakum jameeAAanilla fee quran muhassanatin aw min wara-ijudurin ba/suhum baynahum shadeedun tahsabuhum jameeAAanwaquloobuhum shatta thalika bi-annahum qawmun layaAAqiloon
یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں1، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے2 گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں3۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں.4
كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Kamathali allatheena min qablihimqareeban thaqoo wabala amrihim walahum AAathabunaleem
ان لوگوں کی طرح جو ان سے کچھ ہی پہلے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا1 اور جن کے لیے المناک عذاب (تیار) ہے.2
كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَـٰنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّنكَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
Kamathali ashshaytani ithqala lil-insani okfur falamma kafara qalainnee baree-on minka innee akhafu Allaha rabba alAAalameen
شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب وه کفر کر چکا تو کہنے لگا میں تو تجھ سے بری ہوں1، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں.2
فَكَانَ عَـٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِى ٱلنَّارِ خَـٰلِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Fakana AAaqibatahumaannahuma fee annari khalidayni feehawathalika jazao aththalimeen
پس دونوں کا انجام یہ ہوا کہ آتش (دوزخ) میں ہمیشہ کے لیے گئے اور ﻇالموں کی یہی سزا ہے.1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ
Ya ayyuha allatheena amanooittaqoo Allaha waltanthur nafsun maqaddamat lighadin wattaqoo Allaha inna Allahakhabeerun bima taAAmaloon
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو1 اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے2۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے.3
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ
Wala takoonoo kallatheenanasoo Allaha faansahum anfusahum ola-ikahumu alfasiqoon
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا1، اور ایسے ہی لوگ نافرمان (فاسق) ہوتے ہیں.
لَا يَسْتَوِىٓ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۚ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ
La yastawee as-habu annariwaas-habu aljannati as-habu aljannatihumu alfa-izoon
اہل نار اور اہل جنت (باہم) برابر نہیں1۔ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں (اور جو اہل نار ہیں وه ناکام ہیں).2
لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُۥ خَـٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَـٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
Law anzalna hatha alqur-anaAAala jabalin laraaytahu khashiAAan mutasaddiAAanmin khashyati Allahi watilka al-amthalu nadribuhalinnasi laAAallahum yatafakkaroon
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے1 تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا2 ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں.3
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ ۖ هُوَ ٱلرَّحْمَـٰنُ ٱلرَّحِيمُ
Huwa Allahu allathee lailaha illa huwa AAalimu alghaybi washshahadatihuwa arrahmanu arraheem
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے1 کھلے کا جاننے واﻻ مہربان اور رحم کرنے واﻻ.
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْمَلِكُ ٱلْقُدُّوسُ ٱلسَّلَـٰمُ ٱلْمُؤْمِنُ ٱلْمُهَيْمِنُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْجَبَّارُ ٱلْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ
Huwa Allahu allathee lailaha illa huwa almaliku alquddoosu assalamualmu/minu almuhayminu alAAazeezu aljabbaru almutakabbirusubhana Allahi AAamma yushrikoon
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں.
هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَـٰلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Huwa Allahu alkhaliqu albari-oalmusawwiru lahu al-asmao alhusnayusabbihu lahu ma fee assamawatiwal-ardi wahuwa alAAazeezu alhakeem
وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ1، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں2، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے3، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.4