لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
Lam yakuni allatheena kafaroo min ahlialkitabi walmushrikeena munfakkeena hattata/tiyahumu albayyina
اہل کتاب کے کافر1 اور مشرک2 لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ).
تفسیر المیسر: لم يكن الذين كفروا من اليهود والنصارى والمشركين تاركين كفرهم حتى تأتيهم العلامة التي وُعِدوا بها في الكتب السابقة.
رَسُولٌ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًا مُّطَهَّرَةً
Rasoolun mina Allahi yatloo suhufanmutahhara
اللہ تعالیٰ کا ایک رسول1 جو پاک صحیفے پڑھے.2
تفسیر المیسر: وهي رسول الله محمد صلى الله عليه وسلم، يتلو قرآنًا في صحف مطهرة.
فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ
Feeha kutubun qayyima
جن میں صحیح اور درست احکام ہوں.1
تفسیر المیسر: في تلك الصحف أخبار صادقة وأوامر عادلة، تهدي إلى الحق وإلى صراط مستقيم.
وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
Wama tafarraqa allatheena ootooalkitaba illa min baAAdi ma jaat-humualbayyina
اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے.1
تفسیر المیسر: وما اختلف الذين أوتوا الكتاب من اليهود والنصارى في كون محمد صلى الله عليه وسلم رسولا حقًا؛ لما يجدونه من نعته في كتابهم، إلا مِن بعد ما تبينوا أنه النبي الذي وُعِدوا به في التوراة والإنجيل، فكانوا مجتمعين على صحة نبوته، فلما بُعِث تفرقوا: فمنهم من آمن به، ومنهم من جحد نبوته بغياً وحسداً.
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ
Wama omiroo illa liyaAAbudooAllaha mukhliseena lahu addeena hunafaawayuqeemoo assalata wayu/too azzakatawathalika deenu alqayyima
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا1 کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف2 کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا.3
تفسیر المیسر: وما أمروا في سائر الشرائع إلا ليعبدوا الله وحده قاصدين بعبادتهم وجهه، مائلين عن الشرك إلى الإيمان، ويقيموا الصلاة، ويُؤَدُّوا الزكاة، وذلك هو دين الاستقامة، وهو الإسلام.
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ
Inna allatheena kafaroo min ahli alkitabiwalmushrikeena fee nari jahannama khalideenafeeha ola-ika hum sharru albariyya
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں.1
تفسیر المیسر: إن الذين كفروا من اليهود والنصارى والمشركين عقابهم نار جهنم خالدين فيها، أولئك هم أشد الخليقة شرا.
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ ٱلْبَرِيَّةِ
Inna allatheena amanoowaAAamiloo assalihati ola-ika humkhayru albariyya
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں.1
تفسیر المیسر: إن الذين صَدَّقوا الله واتبعوا رسوله وعملوا الصالحات، أولئك هم خير الخلق.
جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ
Jazaohum AAinda rabbihim jannatuAAadnin tajree min tahtiha al-anharu khalideenafeeha abadan radiya Allahu AAanhum waradooAAanhu thalika liman khashiya rabbah
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا1 اور یہ اس سے راضی ہوئے2۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے.3
تفسیر المیسر: جزاؤهم عند ربهم يوم القيامة جنات إقامة واستقرار في منتهى الحسن، تجري من تحت قصورها الأنهار، خالدين فيها أبدًا، رضي الله عنهم فقبل أعمالهم الصالحة، ورضوا عنه بما أعدَّ لهم من أنواع الكرامات، ذلك الجزاء الحسن لمن خاف الله واجتنب معاصيه.