قُلْ أُوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا
Qul oohiya ilayya annahu istamaAAanafarun mina aljinni faqaloo inna samiAAnaqur-anan AAajaba
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت1 نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے.2
تفسیر المیسر: قل -أيها الرسول-: أوحى الله إليَّ أنَّ جماعة من الجن قد استمعوا لتلاوتي للقرآن، فلما سمعوه قالوا لقومهم: إنا سمعنا قرآنًا بديعًا في بلاغته وفصاحته وحكمه وأحكامه وأخباره، يدعو إلى الحق والهدى، فصدَّقنا بهذا القرآن وعملنا به، ولن نشرك بربنا الذي خلقنا أحدًا في عبادته.
يَهْدِىٓ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدًا
Yahdee ila arrushdi faamannabihi walan nushrika birabbina ahada
جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے1۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے2 (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب3 کا شریک نہ بنائیں گے.
تفسیر المیسر: وأنه تعالَتْ عظمة ربنا وجلاله، ما اتخذ زوجة ولا ولدًا.
وَأَنَّهُۥ تَعَـٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَـٰحِبَةً وَلَا وَلَدًا
Waannahu taAAala jaddu rabbinama ittakhatha sahibatan wala walada
اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا.1
تفسیر المیسر: وأن سفيهنا -وهو إبليس- كان يقول على الله تعالى قولا بعيدًا عن الحق والصواب، مِن دعوى الصاحبة والولد.
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًا
Waannahu kana yaqoolu safeehunaAAala Allahi shatata
اور یہ کہ ہم میں سے بیوقوف [یعنی ابلیس] اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا.1
تفسیر المیسر: وأنَّا حَسِبْنا أن أحدًا لن يكذب على الله تعالى، لا من الإنس ولا من الجن في نسبة الصاحبة والولد إليه.
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا
Waanna thanannaan lan taqoola al-insu waljinnu AAala Allahikathiba
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں.1
تفسیر المیسر: وأنه كان رجال من الإنس يستجيرون برجال من الجن، فزاد رجالُ الجنِّ الإنسَ باستعاذتهم بهم خوفًا وإرهابًا ورعبًا. وهذه الاستعاذة بغير الله، التي نعاها الله على أهل الجاهلية، من الشرك الأكبر، الذي لا يغفره الله إلا بالتوبة النصوح منه. وفي الآية تحذير شديد من اللجوء إلى السحرة والمشعوذين وأشباههم.
وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ ٱلْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا
Waannahu kana rijalun minaal-insi yaAAoothoona birijalin mina aljinni fazadoohumrahaqa
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے1 جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے.2
تفسیر المیسر: وأن كفار الإنس حسبوا كما حسبتم -يا معشر الجن- أن الله تعالى لن يبعث أحدًا بعد الموت.
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا۟ كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ ٱللَّهُ أَحَدًا
Waannahum thannoo kama thanantuman lan yabAAatha Allahu ahada
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا).1
تفسیر المیسر: وأنَّا -معشر الجن- طلبنا بلوغ السماء؛ لاستماع كلام أهلها، فوجدناها مُلئت بالملائكة الكثيرين الذين يحرسونها، وبالشهب المحرقة التي يُرمى بها مَن يقترب منها.
وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَـٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا
Waanna lamasna assamaafawajadnaha muli-at harasan shadeedanwashuhuba
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا.1
تفسیر المیسر: وأنا كنا قبل ذلك نتخذ من السماء مواضع; لنستمع إلى أخبارها، فمن يحاول الآن استراق السمع يجد له شهابًا بالمرصاد، يُحرقه ويهلكه. وفي هاتين الآيتين إبطال مزاعم السحرة والمشعوذين، الذين يدَّعون علم الغيب، ويغررون بضعفة العقول؛ بكذبهم وافترائهم.
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـٰعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْـَٔانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًا رَّصَدًا
Waanna kunna naqAAudu minhamaqaAAida lissamAAi faman yastamiAAi al-anayajid lahu shihaban rasada
اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے1۔ اب جو بھی کان لگاتا ہے وه ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے.2
تفسیر المیسر: وأننا -معشر الجن- لا نعلم: أشرًّا أراد الله أن ينزله بأهل الأرض، أم أراد بهم خيرًا وهدى؟
وَأَنَّا لَا نَدْرِىٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا
Waanna la nadree asharrunoreeda biman fee al-ardi am arada bihim rabbuhumrashada
ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا اراده کیا گیا ہے یا ان کے رب کا اراده ان کے ساتھ بھلائی کا ہے.1
تفسیر المیسر: وأنا منا الأبرار المتقون، ومنا قوم دون ذلك كفار وفساق، كنا فرقًا ومذاهب مختلفة.
وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا
Waanna minna assalihoonawaminna doona thalika kunna tara-iqaqidada
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں.1
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًا
Wanna thanannaan lan nuAAjiza Allaha fee al-ardi walan nuAAjizahuharaba
اور ہم نے سمجھ لیا1 کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں.
وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا ٱلْهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦ ۖ فَمَن يُؤْمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا
Waanna lamma samiAAnaalhuda amanna bihi faman yu/min birabbihifala yakhafu bakhsan wala rahaqa
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا.1
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًا
Waanna minna almuslimoonawaminna alqasitoona faman aslama faola-ikataharraw rashada
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں1 پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا.
وَأَمَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا
Waama alqasitoona fakanoolijahannama hataba
اور جو ﻇالم ہیں وه جہنم کا ایندھن بن گئے.1
وَأَلَّوِ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَـٰهُم مَّآءً غَدَقًا
Waallawi istaqamoo AAala attareeqatilaasqaynahum maan ghadaqa
اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راه راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے.
لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا
Linaftinahum feehi waman yuAArid AAanthikri rabbihi yasluk-hu AAathaban saAAada
تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں1، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا.2
وَأَنَّ ٱلْمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا
Waanna almasajida lillahi falatadAAoo maAAa Allahi ahada
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.1
وَأَنَّهُۥ لَمَّا قَامَ عَبْدُ ٱللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا۟ يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
Waannahu lamma qama AAabdu AllahiyadAAoohu kadoo yakoonoona AAalayhi libada
اور جب اللہ کا بنده اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وه بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں.1
قُلْ إِنَّمَآ أَدْعُوا۟ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِهِۦٓ أَحَدًا
Qul innama adAAoo rabbee walaoshriku bihi ahada
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا.1
قُلْ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا
Qul innee la amliku lakum darranwala rashada
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں.1
قُلْ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا
Qul innee lan yujeeranee mina Allahiahadun walan ajida min doonihi multahada
کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا1 اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناه بھی پا نہیں سکتا.
إِلَّا بَلَـٰغًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَـٰلَـٰتِهِۦ ۚ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا
Illa balaghan mina Allahiwarisalatihi waman yaAAsi Allahawarasoolahu fa-inna lahu nara jahannama khalideenafeeha abada
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے1، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے.
حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا
Hatta itha raaw mayooAAadoona fasayaAAlamoona man adAAafu nasiranwaaqallu AAadada
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے1 پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے.2
قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّىٓ أَمَدًا
Qul in adree aqareebun ma tooAAadoonaam yajAAalu lahu rabbee amada
کہہ دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جاتا ہے وه قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے دور کی مدت مقرر کرے گا.1
عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِۦٓ أَحَدًا
AAalimu alghaybi fala yuthhiruAAala ghaybihi ahada
وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا.
إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا
Illa mani irtada min rasoolinfa-innahu yasluku min bayni yadayhi wamin khalfihi rasada
سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے1 لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے.2
لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا
LiyaAAlama an qad ablaghoo risalatirabbihim waahata bima ladayhim waahsa kullashay-in AAadada
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے1 اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے2 اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے.3